آپ معشوق کیا ہوگۓ
عاشقوں کے خدا ہوگۓ
تم کو اچھا مسلماں کیا
اور کافر ادا ہو گئے
چشم ساقی سے پی لی شراب
شیخ جی پارسا ہو گئے
اس نے میت پہ آ کر کہا
تم تو سچ مچ خفا ہو گئے
آگۓ میری میت پہ تم
سارے وعدے وفا ہو گئے
خیر اب کارواں کی نہیں
راہزن رہنما ہو گئے
اور کچھ غم نہیں غم یہ ہے
آپ مل کر جدا ہو گئے
پرنمؔ اس بے وفا کے لئے
میرے آنسو دعا ہو گئے
پرنم الہ آبادی
Lyrics Submitted by محمد بلال حبیب گوہر
Lyrics provided by https://damnlyrics.com/