شام کا ہوش نہ ہے فکرِ سحر زینب س کو
یاد آتا ہے بس اِک بھائی کا سَر زینب س کو
اے ہَوا خاک سے تُو شام کی گلیاں بھر دے
دیکھ نہ پائے کوئی غیر نظر زینب س کو
دیکھ کر روتی رہی بھائی کے سَر کو زینب س
دیکھ کر روتا رہا بھائی کا سَر زینب س کو
گھوم جاتا ہے وہیں نیزے پر شبیر ع کا سَر
لے کے جاتے ہیں لعین ہائے جدھر زینب س کو
پہلے ڈھانپا تنِ شبیر سے کرب و بلا
دینے پھر آئی رِدا خاکِ سفر زینب س کو
Lyrics Submitted by حمزہ نقوی
Enjoy the lyrics !!!